عامر لیاقت کا ہم شکل انداز بھی ویسا ہی

عامر لیاقت کی وفات کا گہرا صدمہ پہنچا، وہ اس دنیا سے جاتے جاتے بھی بہت کچھ کہہ گئے، ڈاکٹر عامر لیاقت کے ہم شکل عثمان فیروزی

عثمان فیروزی نے کہا کہ وہ پانچویں جماعت میں تھے تو ڈاکٹر عامر لیاقت کا پروگرام عالم آن لائن نشر ہوتا تھا ۔ اسی وقت سے ان کودیکھنا شروع کیا ۔ عثمان نے کہا کہ ان کی ایک ٹیچر نے کہا کہ وہ عامر لیاقت کے ہم شکل ہیں ۔ پھر آہستہ آہستہ اس بات سے اتنی وابستگی ہوتی چلی گئی کہ ڈاکٹر عامر کے انداز کا قریب سے مشاہدہ شروع کیا ، وہ کیسے ہنستے ہیں کیسے بولتے ہیں ، کس انداز میں گفتگو کرتے ہیں ۔ اور پھر ان کا انداز ایسے اپنایا کہ جیسے وہ میرا ہی انداز ہو
عثمان نے کہا کہ ڈاکٹر عامر جیسی شخصیت شاید ہی ہو کیوں کہ ان میں بہت خصوصیات تھیں ۔ آج بھی لوگ چلتے پھرتے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عامر کے مشہور جملوں کو ادا کر کے دیکھاو ۔ لوگوں نے ان کو مزاق میں لیا ، ان کے آخری الفاظ آج بھی یاد ہیں کہ میرے بعد کس کو ستاو گے ۔ میرے بعد کس کی میمز بناو گے ۔ لوگوں نے ان کو بہت زیادہ تنگ کیا ۔

عثمان فیروزی نے کہا کہ ڈاکٹر عامر کی وفات کے بعد وہ ایک اولڈ ہاوس گئے ، جہاں ایک بوڑھی خاتون ان سے لپٹ کر بے حد روئیں ۔ عثمان نے کہا کہ ان خاتون کو روتا دیکھ کر مجھے رونا آگیا کہ وہ خاتون اپنے سامنے مجھے یعنی ڈاکٹر عامر کو دیکھ کر خوشی اور غم دونوں کے ملے جلی کیفیات میں مبتلا تھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں