فارمرز ایڈوائزری کمیٹی: پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ملتان کادسواں اجلاس،کپاس کے کاشتکاروں کے لئے15 اگست تک کی سفارشات جاری

ملتان ! سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا دسواں اجلاس منعقد ہوا ،جس کی صدارت ڈائریکٹر سی سی آر ملتان ڈاکٹر زاہدمحمودنے کی۔اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے زرعی ماہرین نے بھرپور شرکت کی اور ملکی سطح پر کپاس کی مجموعی صورتحال اور کپاس کی نگہداشت کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اجلاس میں مون سون کی بارشوں سے کپاس کی فصل پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا کاشتکاروں کے لئے 15اگست تک کی سفارشات پیش کی گئیں۔بارشوں کے بعد کپاس کی فصل میں پھل کے کیرے میں اضافہ ہوا ہے۔ کیرے کو کم کرنے کے لئے سپلیمنٹ فارمولہ پوٹاشیم سلفیٹ300گرام، میگنیشیم سلفیٹ300گرام، زنک سلفیٹ250گرام ،بوریکس150گراماور2کلوگرام یوریا لے کر سب کا علیحدہ علیحدہ محلول بنا لیں اور پھر سب کو100لٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔ کاشتکار حضرات مذکورہ سپرے کو 15دن کے وقفہ سے دوبارہ سپرے کریں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جو فصل قد نہیں کر رہی تو وہاں 15تا20کلوگرام یوریا اور2کلوگرام بوریکس فی ایکڑ کے حساب سے فلڈ کریں یا وتر میں چھٹہ دیں یا پھر کھیلیوں میں کیرا کریں۔ بارش کے بعد فصل کو کھاد کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے کاشتکار کم از کم آدھی بوری یوریا،یا کیلشیم امونیم نائٹریٹ /گوارا ایک بوری یا ایک بوری امونیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریںالبتہ جو فصل بڑھوتری کی طرف مائل ہو اس میں یوریا کا ستعمال نہ کریں لیکن باقی مذکورہ کھادیں اسی طرح ڈالیں۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں بتایا گیا کہ کپاس کے کاشتکار متوقع بارش کی صورت میں کھیت سے بارش کے پانی کے نکاس کا فوری بندوبست کر لیں اور24گھنٹے کے اندر اندر بارش کا پانی کھیت سے لازمی باہرنکالیں۔ کاشتکار احتیاطی تدابیر کے لئے کھیت کے ایک کونے میں4فٹ کا گہرا گھڑا کھود لیں تاکہ بارش کا پانی اس میں جمع ہو سکے اور اس کے نکاس میں آسانی ہو۔کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے وتر آنے پر گوڈی کریں۔ بارشوں سے پہلے پہلے کاشتکار جڑی بوٹیوں کے تدارک اور زرعی زہروں کا استعمال یقینی بنائیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسے کاشتکار جنہوں نے گلائیفوسیٹ کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام( ٹرپل جین) کاشت کی ہیں تو وہ کھڑی فصل میںگلائیفوسیٹ بحساب ایک لٹر100لٹر پانی کی مقدار میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں جبکہ روائتی اقسام کاشت کرنے والے کاشتکار گلائیفوسیٹ سپرے کرتے وقت شیلڈ کا استعمال لازمی کریں۔ اجلا س میں کاشتکاروں کو سفارشات پیش کی گئیں کہ وہ بیج کے لئے لگائی گئی کپاس میں روگنگ کا عمل ضرور کریں۔بارش سے متاثرہ کھیت میں چنائی کے بعد کپاس کو اچھی طرح دھوپ لگوائیں اور خشک کرنے کے بعد اسے سٹور میں رکھیں جبکہ بیج میں نمی کا تناسب8-10فیصد سے زائد نہ ہو۔ کاشتکار بارش سے متاثرہ پھٹی کو بیج کے لئے ہرگز منتخب نہ کریں۔ اس کے علاوہ بیج کے لئے لگائی گئی فصل میں ٹینڈے کھل جانے کے بعد فوری چنائی کریں تاکہ بیج کا معیار بارش سے متاثر نہ ہونے پائے۔جن کھلے ہوئے ٹینڈوں میں بیج اگنا شروع ہوچکا ہو تو اس قسم کی پھٹی کو بیج کے لئے ہرگز منتخب نہ کریں۔کپاس کی فصل کے پتوں کا رنگ کالا پڑ نے کی صورت میں، یا ٹینڈوں کی سڑن یا جھلساﺅ کی صورت میں کپاس کے کاشتکار ٹیبوکونازول+ٹرائی فلوکسی سٹروبن کا مکسچر65گرام یاکاپرآکسی کلورائیڈ300گرام بحساب100 لٹر پانی میں فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں۔ جبکہ مرجھاﺅ کی صورت میں تھائیو فینیٹ میتھائل400گرام یافوسٹائل ایلیومونیم500گرام یا میٹالگزل+مینکوزپ300)گرام( فی ایکڑ آبپاشی کے ساتھ فلڈ کریں۔وائرس سے متاثرہ فصل کے لئے کاشتکاروں کوسپلیمنٹ فارمولہ استعمال کرنے کی سفارشات پیش کی گئیں اور بتایا گیا کہ بارشوں کے بعد وائرس سے متاثرہ فصل میں نشونما کا عمل دوبارہ سے ازخود شروع ہو جائے گا۔ اجلاس میں سفید مکھی سے بچاﺅ کی صورت میں پیلے لیس دار چپکنے والے پھندے بحساب10عدد فی ایکڑ کے استعمال کی سفارشات پیش کی گئیں۔ سفید مکھی کے شدید حملہ کی صورت میں کاشتکارسپائروٹیٹرامیٹ125ملی لٹر+بائیو پاور250ملی لٹر یا فلونیکا مڈ80گرام یا ڈائی نوٹیفرون+بیپروفیزن مکسچر250گرام بحساب100لٹر پانی فی ایکڑ سپرے کریں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی فصل جہاں ڈوڈی بننے کا عمل شروع ہوچکا ہے وہاں گلابی سنڈی کا حملہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ کپاس کے کاشتکار گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کے لئے1جنسی پھندہ فی پانچ ایکڑلگائیں جبکہ مینجمنٹ کے لئے8جنسی پھندے فی ایکڑ کے حساب سے لگائے جائیں۔ گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے لئے120عدد پی بی روپس فی ایکڑ استعمال کی سفارش پیش کی گئی۔ گلابی سنڈی کا حملہ معاشی حد کو پہنچ جائے تو کاشتکار سپنٹورام100ملی لٹر یا گیما سائی ہیلو تھرین100ملی لٹر یا بائی ینتھرین330ملی لٹر100 لٹرپانی فی ایکڑ اسپرے کریں۔جیسڈ/چست تیلے کے معاشی نقصان کی حد پر کاشتکار ڈائی نوٹیفرون100گرام یافلونیکا مڈ60گرام بحساب 100لٹر پانی فی ایکڑ اسپرے کریں۔ کاشتکار تھرپس کے معاشی نقصان کی حد تک پہنچنے پر کلورفینا پائر125ملی لٹر یا سپنٹورام60ملی لٹر یا تھائیو میتھاکسن+ایبا میکٹن مکسچر400ملی لٹر بحساب100 لٹرپانی فی ایکڑ اسپرے کریں. اگر فصل پردیمک کا شدیدحملہ ہوجائے تو کاشتکار کلوروپائیریفاس 1000ملی لٹر یا فیپرونل480ملی لٹر کو ایک ہی نکے سے دوران آب پاشی فلڈ کریں ۔ ملی بگ کے حملہ کی صورت میں کاشتکار پروفینو فاس70ملی لٹر یا کلوتھیان ڈن40ملی لٹر فی 20لٹر پانی کی ٹینکی کے ساتھ متاثرہ پودوں اور ارد گرد کے پودوں پر سپرے کریں۔ کاشتکار ڈسکی کاٹن بگ کے حملہ کی صورت میں کلوتھیان ڈن200ملی لٹر بحساب 100لٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریںاجلاس میں سی سی آر آئی ملتان کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل ،ڈاکٹر محمد ،ادریس خان،ڈاکٹر فیاض احمد ، ، مس صباحت حسین، ساجد محمود، ڈاکٹر رابعہ سعید اور جنید احمد خان ڈاہا سائنٹفک آفیسرنے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں