ملتان (سٹاف رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے بجلی کے بلوں پر عائد بھاری ٹیکس کے خلاف پریس کلب ملتان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بجلی کے بل پھاڑ ڈالے اور بلوں کی ادائیگی روک دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ملتان (سٹاف رپورٹر)
مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے بجلی کے بلوں پر عائد بھاری ٹیکس کے خلاف پریس کلب ملتان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بجلی کے بل پھاڑ ڈالے اور بلوں کی ادائیگی روک دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ گزشتہ روز مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی کی قیادت میں پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مختلف مارکیٹوں اور بازاروں کے صدور اور عہدیداروں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکاء نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بجلی کے بلوں میں عائد بھاری ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے بجلی کے موصول شدہ بل پھاڑ ڈالے۔ قبل ازیں پریس کلب ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، شیخ جاوید اختر، خالد محمود قریشی، شیخ اکرم حکیم، جعفر علی شاہ،مرزا نعیم،جاوید خان و دیگر نے کہا کہ مہنگائی نے کاروبار تباہی کے دھانے تک پہنچا دیے ہیں۔ڈالر کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ سے کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ رہی سہی کسر حکومت کے حالیہ اقدامات نے پوری کر دی ہے جس میں آئی ایم ایف کے اشاروں پر چلتے ہوئے بجلی کے بلوں پر ظالمانہ ٹیکسز عائد کر دیے گئے ہیں۔ظلم تو یہ ہے کہ ایک یونٹ استعمال کرنے والے تاجر کو چھ سے سات ہزار روپے کے بھاری بل بھیجے گئے ہیں جو کہ سراسر زیادتی ہے۔بجلی کے بلوں پر عائد بھاری ٹیکس کو تاجر برادری مسترد کرتی ہے اور بلوں کی ادائیگی بھی روک دینے کا اعلان کرتے ہیں۔تاجر رہنماؤں نے کہا کہ ان ٹیکسزکے کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے،ہڑتالوں کاجلد اعلان کیاجائےگا۔خواجہ سلیمان صدیقی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ان ٹیکسزکے نفاذکے بعد دیگر ٹیکس وصول نہیں کیے جائیں گے اور بجلی کے بلوں میں ایک ہزار روپے سے تین ہزار روپے تک کے فکس ٹیکس وصول کیے جائیں گے مگر اب جب چھوٹے تاجروں کو بجلی کے بل موصول ہوئے ہیں تو ان میں ٹیکس کی شرح کی گناہ زیادہ ہے جبکہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس بھی وصول کیے جارہے ہیں ان حالات میں چھوٹے تاجروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے حکومت نے لاکھوں تاجروں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے ان ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف تمام تاجر تنظیموں میں متحد ہیں اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے ملک گیر سطح پر احتجاج شروع کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں