سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی زیر صدارت ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں اہم اجلاس کا انعقاد

سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی زیر صدارت ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں اہم اجلاس کا انعقاد
اگست کا مہینہ کپاس کی نگہداشت کے لحاظ سے اہم، نقصان دہ کیڑوں کے حملہ میں اضافہ ہو سکتا ہے، کاشتکاروں کی رہنمائی کی جائے،ثاقب علی عطیل
گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کیلئے فوری طور پر فیرامون ٹریپس لگوائے جائیں،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب
ملتان ( )سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ اگست کا مہینہ کپاس کی نگہداشت کے لحاظ سے بہت اہم ہے کیونکہ فصل پر پھل اٹھانے کا عمل عروج پر ہوتا ہے اورنمی بڑھنے سے نقصان دہ کیڑوں کے حملہ میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ بارشوں کے موسم میں کپاس کی بہتر نگہداشت کیلئے کاشتکاروں کی رہنمائی کی جائے۔جن علاقوں میں زیادہ بارشیں ہوئی ہیں وہاں نکاسی آب یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں کپاس کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹریز امتیاز احمد وڑائچ،سید نویدعالم، ڈائریکٹر جنرلزرانا فقیر احمد،ظفر اللہ سندھو، ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی اطلاعات نوید عصمت کاہلوں سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں کپاس پر بارشوں کے اثرات، پتہ مروڑ وائرس، پودوں کے مرجھاؤ،کیڑے وبیماریوں کے حملہ اور آئی پی ایم پلاٹس کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری ز راعت جنوبی پنجاب نے کہا کہ کپاس پر گلابی سنڈی کے حملہ میں بھی اگست کے مہینے میں شدت آتی ہے لہٰذا گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کیلئے فوری طور پر کھیتوں میں فیرامون ٹریپس لگوائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ افسران گزشتہ سال کپاس کی فصل پربوٹینیکل ایکسٹریکٹس کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے کاشتکاروں کو ان کے سپرے کرنے کا مشورے دیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے بعد کپاس کیلئے اہم مسئلہ جڑی بوٹیوں کی تلفی ہے اس سلسلہ میں کاشتکاروں کی رہنمائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹیوں کے طلبا کی کپاس کے حوالے سے فیلڈ سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں مانیٹرنگ آفیسرز نے اپنے اپنے اضلاع کی رپورٹس پیش کیں جن کے مطابق ابھی تک بارشوں کے کپاس پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔رس چوسنے والے کیڑوں کے حملہ میں کمی واقع ہوئی ہے۔جہاں کپاس کی گروتھ رُکی ہوئی تھی وہاں فصل کی بڑھوتری شروع ہوچکی ہے۔نمائشی پلاٹوں کی صورت حال بہت بہتر ہے۔اگیتی کاشتہ فصل سے اوسطاً 14سے 15من فی ایکڑ پیداوار حاصل ہورہی ہے۔زیادہ تر بوٹینیکل سپرے کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے دوست کیڑوں کی تعداد حوصلہ افزا ہے۔اجلاس میں شعبہ کراپ رپورٹنگ کے افسران نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت فی ایکڑ اوسط ٹینڈے 2.9فیصد زیادہ ہیں، فی پودا ٹینڈوں کی اوسط تعداد 15.4فیصد زیادہ،پودے کا اوسط قد8.2فیصد زیادہ ہے اورفی پودا اوسط پھول 7.4فیصد زیادہ ہیں۔سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب نے مزید کہا کہ فیلڈ عملہ ہر کاشتکار تک ایڈوائزری پہنچانے میں اپنا کردار اداکرے اور کاشتکاروں کوایڈوائزری پر عملدرآمد کیلئے قائل بھی کرے۔اجلاس میں ماہرین نے آئندہ پندھرواڑے میں کپاس کی بہتر نگہداشت کیلئے سفارشات بھی مرتب کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں