دوست مزاری کہاں ہیں؟ چیف جسٹس کا وکیل سے سوال

جمعہ 22 جولائی کو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے موقع پر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف دائر پرویز الہیٰ کی درخواست کے دوران عدالت کے حکم پر عرفان قادر نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر سماعت ویڈیو لنک پر منتقل کی گئی۔

پرویز الہیٰ کی درخواست پر سپریم کورٹ کی جانب سے آج بروز ہفتہ 23 جولائی کو 3 رکنی فل بینچ تشکیل دیا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

رجسٹرار آفس سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کی جانب سے پرویز الہیٰ کی درخواست پر 22/2022 کا نمبر لگایا گیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما اسد عمر، فواد چوہدری، عمر ایوب اور بیرسٹر ظفر سمیت بڑی تعداد میں پارٹی رہنما بھی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چوہدری پرویز الہی کی وزیراعلیٰ کے نتائج کے خلاف دائر درخواست پر سماعت عدالتی کمرہ نمبر ایک میں شروع ہوئی۔ بیرسٹر علی ظفر کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے دلائل دیئے۔

آج ہونے والی سماعت میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے معزز عدالت کے روبرو کہا گیا کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوا، حمزہ شہباز نے 179 جب کہ پرویز الہیٰ نے 186ووٹ حاصل کیے، ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کردیے، ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر ق لیگ کے ووٹ مسترد کیے، جب کہ پارلیمانی پارٹی کے کردار کو نظر انداز کیا۔

علی ظفر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا۔ جس پر چیف جسٹس نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو ذاتی طور پر طلب کرلیتے ہیں۔ دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کر دیتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کو بھی معاونت کے لیے طلب کرلیتے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر ہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کس پیرا گراف کا حوالہ دیا۔ انہوں نے علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو کتنی دیر میں طلب کریں، اس پر علی ظفر نے عدالت سے کہا کہ دو گھنٹے میں بلوا لیں۔

چیف جسٹس نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کو فوری طور پر اسمبلی کے الیکشن کے ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کرلیا، جب کہ اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

عدالت کی جانب سے معاونت کیلئے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی سپریم کورٹ رجسٹری طلب کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران پرویز الہیٰ کے وکیل عامر سعید نے کہا کہ حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ کا حلف لے لیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا، ہم نے آئین اور قانون کی بات کرنی ہے۔ آپ لوگ بھی ذرا صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں، ڈپٹی اسپیکر آ کر بتائیں گے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پر رولنگ دی۔ سماعت میں کچھ دیر کیلئے وقفہ دیا گیا۔

اس موقع پر عدالت نے ابتدائی سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کیا۔ تین صفحات پر مشتمل حکم نامے میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں لارجر بینچ کا حوالہ دیا مگر ڈپٹی اسپیکر نے اس پیراگراف کو پوائنٹ نہیں کیا جس کا حوالہ دیا گیا۔

فیصلے میں معاملے کو پیچدہ قرار دیتے ہوئے لکھا گیا کہ بظاہر معامل معاملہ کافی پیچیدہ لگتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی قیمتی رائے سے عدالت کو اسسٹ کریں گے۔ ڈپٹی اسپیکر ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوں۔

ڈپٹی اسپیکر کہاں ہیں؟

عدالت میں ڈپٹی اسپیکر کی نمائندگی کیلئے عرفان قادر نے وکالت نامہ جمع کرایا۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے عرفان قادر سے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کو طلب کیا تھا وہ کیوں نہیں آئے، جس پر ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میں موجود ہوں عدالت کی معاونت کروں گا۔

عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ڈپٹی اسپیکر کو طلب کیا تھا وہ پیش نہیں ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمرہ عدالت میں اتنا رش ہے، ہم نے کہا تھا کہ متعلقہ لوگ ہی آئیں۔ عدالت نے عرفان قادر سے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں کے ہمارے آرڈر کا کون سا پیرا ہے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی۔ آپ نے صرف بتانا ہے کہ وہ آرڈر کون سا حصہ ہے جس کی ڈپٹی اسپیکر نے آڑ لیکر رولنگ دی۔ آپ وہ پیرا گراف پڑھ دیں۔

جس پر عرفان قادر نے معزز عدالت کے سامنے کہا کہ میری تو آج پہلی پیشی ہے، آپ مشکل امتحان لے رہے ہیں۔ جس کے بعد عدالت نے ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر کو ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھنے کی ہدایت کی۔

عرفان قادر نے عدالت سے پوچھا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں، جس پر چیف جسٹس نے انہیں بتایا کہ آپ پہلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں۔ اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر نے دوست مزاری کی رولنگ پڑھنا شروع کردی۔

عرفان قادر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کے مطابق فیصلہ دیا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ آپ وہ پیرا پڑھ دیں۔

** دائر درخواست میں کیا تھا**

درخواست گزار چوہدری پرویز الہیٰ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن منعقد کیا گیا، پرویز الہی نے 186 ووٹ حاصل کئے، ڈپٹی اسپیکر نے غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر رولنگ دی، ڈپٹی اسپیکر نے غیر قانونی اور غیر آئینی رولنگ دے کر 10 ووٹ شمار نہیں کئے۔

درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی بھی خلاف ورزی ہے، استدعا ہے کہ عدالت ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ووٹ کاؤنٹ پر رولنگ کالعدم قرار دے۔

گزشتہ رات پھر سپریم کورٹ کھل گئی

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی جمعہ 23 جولائی کی رات کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر پہنچ گئے۔

ق لیگ کے ووٹ مسترد کرنے کے خلاف درخواست دائر کرنے کیلئے سپریم کورٹ ایک بار پھر رات کو کھل گئی۔ تحریک انصاف کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی کہ ق لیگ کےپارلیمنٹری ہیڈ نے تمام ممبران کو پرویزالہیٰ کوووٹ دینے کا پابند کیا، عدالت ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے دی گئی رولنگ کالعدم قرار دے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے خلاف قانون ق لیگ کےووٹ مسترد کیے۔ آئین کے آرٹیکل63اے کے مطابق پارلیمنٹری ہیڈ ممبران کو ہدایت جاری کرتا ہے۔ درخواست میں ڈپٹی اسپیکر،پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

نوٹ :

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست: چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ابتدائی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں