ایمن الظواہری زندہ ہیں، یو این رپورٹ

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری زندہ ہیں اور آزادانہ طور پر پیغام رسانی کر رہے ہیں۔

لانگ وار جرنل کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اب بھی القاعدہ کے ساتھ مضبوط اتحاد رکھتے ہیں تاہم رپورٹ میں یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ آیا ایمن الظواہری افغانستان کے اندر متحرک ہیں یا نہیں، اس سے قبل مغربی میڈیا کئی بار انکی موت کے دعوے کرچکا ہے۔

لانگ وارجرنل کے مطابق القاعدہ کی افغانستان میں موجودگی ڈھکی چھپی نہیں اوریہ وسطی ایشیا کے جہادی گروپوں ترکمانستان اسلامک پارٹی اور نصراللہ گروپ کے ساتھ ملکر کام کرتی ہے، عبدالحکیم ترکستانی جنہیں امریکی محکمہ خارجہ نے القاعدہ کی مرکزی شوریٰ کے رکن کے طور پر شناخت کیا تھا، انہوں نے عیدالفطر کی نماز افغانستان میں ادا کی تھی۔

یو این رپورٹ میں القاعدہ کے افغانستان کے اندر منسلک گروپوں کی تفصیل بھی دی گئی ہے، اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کے اندر کون کون جانشین بننے کے لیے قطار میں ہے۔

اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ سیف العادل ایمن الظواہری کے بعد جان نشینی کے لیےتیار ہیں، اسکے بعد عبدالرحمن ال مغربی ہیں۔ ان کے بعد اسلامک مغرب میں القاعدہ کے سربراہ ہیں اور یزید مبراک اور ال شباب کے احمد دریے جان نشینی کے لیے قطار میں ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (اناما ) کی ایک اور رپورٹ میں افغانستان کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احاطہ کیا گیا ہے، طالبان کے ترجمان نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔

اسکے علاوہ اقوام متحدہ کی تعزیرات کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں مسلح تصادم میں واضح کمی آئی ہے اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد عام شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کے واقعات میں بھی کم ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایمن الظواہری کی موت کی افواہیں گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے گردش کررہی ہیں، دو ماہ پہلے اپریل میں بھی ایمن الظواہری کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد انکی موت کی افواہیں دم توڑ گئی تھیں۔

اس ویڈیومیں القاعدہ کے سربراہ نے بھارتی مسلم لڑکی مسکان خان کی تعریف کی تھی جس نے بھارت میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی تھی، مسکان خان نے اس وقت اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھاجب ہندو انتہاپسندوں نے کالج کے باہر حجاب پہننے پرانہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں