(رحیم یار خان بیوروچیف رانا عثمان علی) الخالد ہسپتال فتح پور پنجابیاں کے ایل پی روڈ میں ایک اور نئے پیدا ہونے والے بچے کی ہلاکت

(رحیم یار خان بیوروچیف رانا عثمان علی) الخالد ہسپتال فتح پور پنجابیاں کے ایل پی روڈ میں ایک اور نئے پیدا ہونے والے بچے کی ہلاکت پر لواحقین کا ہسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج. متاثرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی وجہ سے ہمارے بچے کی موت واقع ہوئی ایڈمن ہسپتال ڈاکٹر خالد نے ہمارے ساتھ غلط بیانی کی جس کا ہمیں سب سے زیادہ افسوس ہے متاثرین کا نااہل انتظامیہ الخالد ہسپتال کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روز الخالد ہسپتال میں ایک نئے پیدا ہونے والے بچے کی ہلاکت پر لواحقین نے میڈیا سے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ ہم عرصہ دراز سے اس ہسپتال سے اپنا علاج کروا رہے ہیں اور الٹراساؤنڈ کے حوالے سے ہم اپنی بہو کو ہسپتال میں لے کر آئے تو ہسپتال کی ڈاکٹر نے ہمیں کہا کہ ماں اور بچے دونوں کو خطرہ ہے ان کا فوری طور پرآپریشن کرنا پڑےگا جس کےبعد ہسپتال انتظامیہ نے تمام ضروری میڈیکل ٹیسٹ کروائے اور کہا کہ آپ مریض کو داخل کروا دیں ہم آج ہی آپریشن کریں گے اور ہم نے کہا کہ ہمیں کمرہ دے دیں۔ جس پر انہوں نے ہمیں سادہ کمرہ دیا جس پر ہم نے کہاکہ یہ کمرہ ہم نے نہیں لینا تو ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ اتنے پیسے جمع کروا دیں جس کے بعد ہم نے 2200ہزار روپے جمع کروائے اور ہمیں کمرہ دے دیا گیا جس کے بعد آپریشن کیا گیا اور ہماری بچی پیدا ہوئی اور ہمیں کہا گیا کہ اسےآئی سی یو میں رکھنا ہے جس کے بعد کافی دیر گزرنے کے باوجود نہ ہی کوئی کمپوٹر آیا اور نا ہی کوئی سٹاف آیا اورجب ہم نے ایڈمن کو تمام رپورٹس چیک کروائیں تو ایڈمن ڈاکٹر خالد نے کہا کہ بچی کو کچھ بھی نہیں ہے اور اس کے کچھ دیر بعد ہماری بچی فوت ہو گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ہماری بچی کو کچھ بھی نہیں تھا تو ہماری بچی کی وفات کیسے ہوئی؟؟ متاثرین نے الزام لگاتے ہوئے مزید کہا کہ جب ہسپتال میں وہ سہولیات موجود ہی نہیں ہیں کہ جن کے حوالے سے ہمیں سبز باغ دکھائے گئے تو ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی ہونا چاہیئے۔متاثرین نے وزیراعلی پنجاب۔ وزیر صحت پنجاب۔ محکمہ ہیلتھ کے اعلی افسران اور ڈی سی او رحیم یار خان سے واقعے کا نوٹس لینے کے ساتھ الخالد ہسپتال انتظامیہ کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن جب اس حوالے سے ہسپتال انتظامیہ سے موقف لیا گیا تو ہسپتال انتظامیہ نے کسی بھی قسم کی غفلت سے انکار کرتے ہوئے واقعے کو اللہ تعالی کی مرضی قرار دیا۔یاد رہے کہ ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیخ زاید ہسپتال و کالج رحیم یارخان ڈاکٹر فرحانہ خالد کی زیرنگرانی چلنے والی الخالد ہسپتال میں اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ اس طرح کے واقعات رونما ہو چکے ہیں اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف اس سے قبل بھی لواحقین احتجاج کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں